سماع

سماع کے لغوی معنی سماعت یعنی سننے کے ہیں جبکہ تصوف کی اصطلاح میں سماع سے مراد وہ سرودِ سرمست ہے جو خدا تعالٰی کی معرفت پر مبنی ہو سماع موسیقی کی مختلف اقسام میں رائج ہے جس میں قوالی، قول قلبانہ اور خیال کی اصناف شامل ہیں سماع ہمارے چشتیہ صوفی سلسلہ میں ایک بنیادی مقام رکھتا ہے سماع کے ماہرِ اعظم حضرت امیر خسرو دہلوی جو معروف چشتی بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء کے چہیتے مرید تھے اور جنہوں نے سماع کی ابجد وضع کرکے سماع کو دنیائے موسیقی میں اَمر کر دیا ہندوستانی موسیقی میں ایک نابغہ کی حیثیت رکھتے ہیں سماع کا صوفیاء سے خاصا ربط رہا ہے چنانچہ سیدی جلال الدین رومی سے لے کر حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر، حضرت نظام الدین اولیاء، حضرت شاہ حسین اور حضرت خواجہ غلام فرید فنِ موسیقی کے نہ صرف جاننے والے تھے بلکہ راگ اور راگنیوں کا درک بھی رکھتے تھے سیدی جلال الدین رومی کی بانسری اور حضرت امیر خسرو دہلوی کا ستار عارفانہ موسیقی کا بہترین نمونہ ہیں حضرت امیر خسرو دہلوی نے تو ہندوستانی اور ایرانی راگوں کے ملاپ سے متعدد ایسے جدید دقیق راگ اور راگنیاں وضع کیں کہ جنہیں آج بھی بہت کم موسیقار جانتے اور سمجھتے ہیں آپ نے مختلف راگ اور راگنیوں میں اپنے جلیل القدر مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی مدح بیان کی ہے ہنداوی زبان میں ایسی دلکش بندشیں وضع کی ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ راگ اور راگنیوں کی پہچان بن گئی ہیں

 

راگ بھیم پلاسی

کائنات میں سرور اور شعور ایسی مابعدالطبیعیاتی روشنیاں ہیں کہ جن کے نمودار ہونے کے بعد انسان روحانی طور پر نہ صرف ضوفشاں ہو جاتا ہے بلکہ اخلاقی طور پر بھی ہر قسم کی آلائش سے پاک صاف ہو جاتا ہے سرور کیلئے مراقبہ اور شعور کیلئے تحصیلِ علم ضروری ہے حضرت سیدی جلال الدین رومی جو دنیائے علم و معرفت کے فقیدالمثال والی ہیں انسان کو سرور کی دعوت دیتے نظر آتے ہیں روایت ہے کہ جب آپ چھ گھنٹے مسلسل رقص کرنے کے بعد ہوش میں آئے تو ولایت کی روشنی آپ کا سینہ منور کر چکی تھی موسیقی اور رقص جس کو قدیم عرب کی بدوی تہذیب میں مرکزی حیثیت حاصل تھی ہندوستان میں بھی یہ جسمانی عبادت کا درجہ رکھتی تھی ہمارے خطے کے اوتار تو ہمیشہ بانسری کے ساتھ جلوہ گر ہوئے صوفیاء کہتے ہیں کہ خدا جاری و ساری ہے کائنات کے ذرے ذرے میں خدا نمویافت ہے اسلام کا بنیادی سبق ہی دراصل صوفیاء کے پاس ہے وہ صوفی جو فرقہ واریت کی آلائش سے منزہ اور کائنات کے ہر ذرے سے ہم آہنگ ہیں کبھی انسانیت میں نظریاتی تفرقہ کو فروغ نہیں دے سکتے کیونکہ خدا سے محبت کا بہترین اظہار دراصل کائنات سے محبت ہے کائنات میں موجود ہر ذی روح سے محبت ہے اور انسان تو پھر اس کائنات کا سب سے بیش بہا سرمایہ ہے صوفیاء کہتے ہیں کہ اصحابِ شریعت جب تک طریقت اختیار نہیں کریں گے ان کا سینہ روشن نہیں ہو سکتا جبکہ اصحابِ طریقت جب تک معرفت کا سفر اختیار نہیں کریں گے تو تب تک انہیں اپنی ذات اور خدا سے کماحقہ آگاہی حاصل نہیں ہو گی کیونکہ من عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ

سلاسلِ اربعہ میں سب سے مسرور سلسلہ چشتیہ کا ہے جس کی بنیاد سرود پر ہے سرود محبت و عقیدت کا مظہر اور عشق کا تخم ہے یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صوفی بزرگ حضرت معین الدین چشتی اجمیری المعروف رنگریز، حضرت فرید الدین مسعود المعروف گنج شکر، حضرت نظام الدین اولیاء المعروف محبوبِ الہی اور آپ کے ہونہار شاگرد اور ہندوستانی موسیقی کے باوا آدم حضرت امیر خسرو دہلوی اس راہ کے مسافر تھے اصنافِ موسیقی میں موجودہ ستار اور طبلہ حضرت امیر خسرو ہی کی ایجادات ہیں اس کے علاوہ متعدد راگ اور بالخصوص ترانہ آپ کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہیں آج بھی اچھا گانے والے خیال بغیر ترانے کے نہیں گاتے حتی کہ ٹھمری میں بھی ترانہ کی تڑک لگائی جاتی ہے بلکہ بعض گلوکار تو ترانہ پر بندش ہی قائم کر لیتے ہیں

بھیم پلاسی صوفیوں کی ٹھاٹھ کافی کی اوڈو سمپورن راگ ہے جس کی آروہی میں پانچ اور امروہی میں سات سر لگائے جاتے ہیں وادی سر اس کا پنچم اور سموادی کھرج ہے اس کی آروہی میں رکھب اور دھیوت سر ورجت ہیں اس لیے بعض اوقات بھیم پلاسی کو سنتے ہوئے مالکونس کا گمان ہوتا ہے کیونکہ یہی دو سر بھیم پلاسی میں تیور ہوتے ہیں جوکہ آروہی میں حذف کر دیئے جاتے ہیں باقی سروں میں کھرج اور پنچم تو قائم ہوتے ہیں مدھم شدھ ہوتی ہے اس راگ کی شکل گا-رے-سا اور نی-دھا-پا سے واضح ہوتی ہے بھیم پلاسی کو گانے کا وقت دن کا تیسرا پہر ہے

آروہی: سا گا ما پا نی سا

امروہی: سا نی دھا پا ما گا رے سا

بھیم پلاسی میں میواتی گھرانے کے معروف راگدان محترم پنڈت جسراج نے ایک بندش قائم کی جو بعد میں بہت ہی مقبول ہوئی اور جس کے بول ہیں

جا جا رے اپنے مندروا

اس بندش کو بعد میں محترمہ آشوینی اور کوشکی نے بھی گایا جو موسیقی کی دنیا میں بے حد مقبول ہوئی پاک و ہند کے زیرک موسیقاروں نے بہت خوبصورت دھنیں بھیم پلاسی میں ترتیب دی ہیں بھیم پلاسی میں ادھارک میڈم نورجہاں کی آواز میں موسیقار ناشاد نے بہت ہی خوبصورت دھن" ہماری سانسوں میں آج تک وہ حنا کی خوشبو مہک رہی ہے "ترتیب دی اس کے علاوہ مہدی حسن خان صاحب نے فلم عظمت کیلئے قتیل شفائی کا ایک بہت ہی سندر گیت" زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں "بھی بھیم پلاسی میں گایا جو آج تک مسلسل مقبول ہے

بھیم پلاسی ایک سکون افزاء راگ ہے اس کے سر بے ساختہ روحانی اطمنان نصیب کرتے ہیں ذہن کے پرتوں میں انتہائی گہرائی سے عود کر جانے والی بھیم پلاسی سنتے ہوئے انسان پر مراقباتی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہتے ہیں کہ سر سمے سے جڑے ہوتے ہیں اس لئے ہر راگ کو اپنے وقت پر گانا چاہئے چنانچہ سارے دن کی تھکن اور اعصابی تناؤ کا شکار انسانی وجود جب دن ڈھلے بھیم پلاسی کے سروں سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو انسان کا وجود تھکن سے فرار حاصل کرکے ایک لامحدود روحانی سکون سے ہمکنار ہو جاتا ہے

صوفیاء کہتے ہیں کہ موسیقی انسانی رویہ میں ایک بہترین توازن پیدا کرتی ہے بالخصوص غصہ، بیزاری اور قنوطیت و لامقصدیت کی کیفیت طاری ہونے پر موسیقی ایک میٹافزیکل میڈیسن کی حیثیت سے کام کرتی ہے رسل نے کہا تھا کہ آنے والے وقت میں انسان ایلوپیتھی کی بجائے موسیقی سے اپنے تمام تر ذہنی مسائل حل کرے گا اور آج واقعی انسان شعوری اور لاشعوری طور پر موسیقی سے ذہنی پراگندگی کا خاتمہ کر رہا ہے یہ بھی قدرت کی عجیب حکمت ہے کہ انسانی گلا سرگم کے اصولوں پر ترتیب دیا گیا ہے اور یہ بلاشبہ ایک معجزاتی حقیقت ہے ہم جب الفاظ کو ایک خاص ترتیب سے باہر نکالتے ہیں تو یہ ترنم کہلاتا ہے اور ہر ترنم ایک مخصوص راگ میں واقع ہوتا ہے چاہے وہ الفاظ حمد کے ہوں نعت کے یا پھر رومانیت پر مبنی اشعار کے، یہ ترنم دراصل موسیقی کی ایک قسم ہے آلات تو محض انسانی گلے سے نکلنے والے ترنم کی اطاعت کرتے ہیں آلات موسیقی کی مبادیات نہیں ہیں نہ ہی موسیقی آلات کی محتاج ہے موسیقی تو انسانی گلے اور کائنات کے ذرے ذرے میں پائی جاتی ہے پوہ کی لمبی لمبی راتوں میں رم جھم کی شپکار رات کے سکوت میں ایک کہنہ مشق گلوکار کا کردار ادا کرتی ہے اسی طرح کوئل کی کوک، چڑیوں کی چہچہاہٹ، بادلوں کی گھن گرج اور جھرنوں کی جھنکار دراصل کائناتی موسیقی کا بہترین مظہر ہیں. 

Designed and Developed by Solutionica