وحدت الوجود

وحدت الوجود سے مراد دراصل ایک ہی وجود ہے اصطلاح میں" تمام جاندار بشمول نباتات و جمادات ذاتِ خداوندی کا عین ہیں " اسے اہل اسلام توحید فارس ہمہ اُو است اور سنسکرتی ویدانت کہتے ہیں یہ کوئی نظریہ، فلسفہ یا عقیدہ نہیں  بلکہ ایک عالمگیر سچائی ہے جو نہ صرف علم کی انتہاء ہے بلکہ ہر مذہب کا حتمی مقصود بھی ہے وحدت الوجود یا توحیدِ حقیقی دراصل دینِ اسلام کی روح ہے حجتہ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں اسکے تین درجات بیان کئے ہیں توحید العوام، توحید الاخواص اور توحید اخص الاخواص، توحید العوام سے مراد دراصل عوام کا وہ فہم ہے جو توحید کے متعلق راسخ ہو چکا یعنی انسان اور خدا کا وہ معاملہ جو ایک عام سطح پر قائم ہوتا ہے اس کے بعد توحید الاخواص ہے یعنی علماء کی توحید اسے ہم فہمِ توحید بربنائے بصیرت بھی کہہ سکتے ہیں پس انسان اور خدا کا معاملہ ایک خاص عقلی بصیرت پر قائم ہو تو یہ توحید الاخواص کہلاتی ہے اس کے بعد توحید کا آخری درجہ ہے اخص الاخواص یعنی عارفین اور عشاق کرام کی توحید، وحدت الوجود کو اسلام کے جید اور معروف ترین صوفیاء اور فضلاء اسلام کی روح تسلیم کرتے ہیں ان میں ابو طالب مکی، حسین بن منصور الحلاج، سیدی جلال الدین رومی، شیخ اکبر محی الدین ابن عربی، حجتہ الاسلام امام غزالی، شیخ الاشراق شہاب الدین سہروردی، صدر الدین شیرازی المعروف مُلا صدرا ، خواجہ شمس الدین حافظ شیرازی، شیخ فرید الدین مسعود گنج شکر، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ،حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، علامہ محمد اقبال وغیرہم، وحدت الوجود کو سنسکرت میں ویدانت کہتے ہیں سنت ویاسا، آدی شنکر اچاریہ اور کبیر داس اسکے معروف ترین مبلغ رہے ہیں وحدت الوجود کو انگریزی میں پین تھی ازم (Pantheism) کہتے ہیں مغرب میں اسکے معروف ترین مبلغین میں معروف اطالوی ریاضی دان اور عیسائی راہب گیوردانو برونو، معروف جرمن فلاسفر جارج ولیم فریڈرک ہیگل، یہودی فلاسفر بارخ سپینوزا اور معروف تھیوریٹکل فزیسٹ البرٹ آئن سٹائن تھے چین میں اس کے معروف ترین مبلغ لاؤزے تھے جبکہ یونان میں ہیراقلاطیس اس عالمگیر سچائی کے پرچارک تھے دنیا میں ان گنت مذاہب مروج رہے ہیں مگر مطلق سچائی ہر دور میں ایک ہی رہی پس جس پر انکشاف ہوا اس نے اعلان کر دیا جو محروم رہ گیا وہ پھر اس طرف نہ آ سکا وحدت الوجود ایک روشنی ہے اور یہ صرف اسی پر منکشف ہوتی ہے جسے حتمی سچ کی جستجو ہو علاوہ ازیں تو انسان کہیں نہ کہیں پھنس ہی جاتا ہے وحدت الوجود عقلیت اور بصیرت کا حتمی مقام ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا کے زیادہ تر ذہین ترین لوگ آخر کار وحدت الوجود پر ہی مقیم ہوتے ہیں

اب ہم وحدت الوجود کو انتہائی سادہ الفاظ میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں چونکہ یہ کوئی فلسفہ یا نظریہ نہیں ہے اس لئے اس میں کوئی گھمبیرتا یا ابہام بھی نہیں ہے ذاتِ خداوندی ایک مکمل وجود ہے اس کو سمجھنے میں کوئی دقت نہیں جبکہ اسکے ساتھ یہ دنیا اور غیر از دنیا جو ابھی دریافت نہیں ہوئی یا دریافت کے مراحل میں ہے بشمول نباتات و جمادات کے ایک دوسرا وجود ہیں جو خدا کی صناعی یا تخلیق ہیں پس یہ کل دو وجود ہوئے ان دو وجود کو صوفیاء دوئی اور فلاسفر ڈول ازم  (Dualism) سے تعبیر کرتے ہیں اسی دوئی کو سیدی جلال الدین رومی اپنی اصطلاح میں مثنوی سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ فارسی میں مثنوی دوئی کو کہتے ہیں یہ دوئی امام غزالی کی شرح کے مطابق عوام کی توحید ہے اس سے آگے بڑھیں تو اگلا مقام بصیرت اور منطق کا ہے یعنی اس دوئی کو منطق کی بنیاد پر سمجھنا اور سمجھانا، یہ مرحلہ مذہب کے دائرے میں آ جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے فرائض شروع ہوتے ہیں اور یہ خواص کی توحید ہے وہ لوگ جن کا مذہب سے غیر معمولی تعلق ہوتا ہے وہ اسی مقام پر قائم ہوتے ہیں اب ان دونوں مراحل پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں مراحل میں ایک نکتہ مماثل ہے اور وہ ہے " اشتراک" جسے مذہب شرک سے تعبیر کرتا ہے یعنی ذاتِ خداوندی اور اسکی صناعی کو دو وجود قرار دینا دراصل حقیقی شرک ہے سطحی ذہن چونکہ اس راز سے واقف نہیں ہوتا اسی لئے وہ اس مقام کو حقیقی توحید سمجھنے لگتا ہے جبکہ فی الحقیقت ایسا نہیں ہے توحید کا آخری اور حقیقی مقام وحدت الوجود ہے یعنی ذاتِ خداوندی اور اسکی صناعی کو ایک وجود جاننا اور ماننا بربنائے منطق و یقین، تھوڑا سا مزید سلیس کئے دیتا ہوں ایک پینٹر جب کسی شفاف کینوس پر رنگ بکھیر کر کوئی فن پارہ تخلیق کرتا ہے تو وہ فن پارہ اپنا کوئی الگ وجود نہیں رکھتا بلکہ وہ اسی پینٹر یعنی مصور ہی کے وجود کا مظہر ہوتا ہے صوفیاء اسے اپنی اصطلاح میں قدس سرہ کہتے ہیں یعنی پاکیزہ راز ایسا راز جس میں کوئی ابہام نہیں جو بالکل شیشے کی طرح صاف ہے کہ خالق قبل از تخلیق بھی ایک وجود ہے اور بعد از تخلیق بھی بشمول تخلیق ایک ہی وجود رہتا ہے یہ ہے درحقیقت وحدت الوجود اور اسی کا اظہار کرتے ہوئے حافظ شیرازی فرماتے ہیں

بہ ہر سو جلوہ دیدار دیدم

بہ ہر چیزے جمال یار دیدم

اسی مقام پر پہنچ کر پھر انسان پوری کائنات بشمول ذاتِ خداوندی سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے اور یہی ہم آہنگی کسی سے انا الحق کہلوا کر دار پر پہنچا دیتی ہے اور کسی کو دنیاوی منزلت پر براجمان کر دیتی ہے سیدی رومی فرماتے ہیں

نے نے کہ ہمو بود کہ می گفت انا الحق

در صورتِ منصور

منصور نہ بود آں کہ برآں دار برآمد

ناداں بہ گماں شد

اسی مقام کی توضیح حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کچھ یوں بیان فرماتے ہیں کہ " موحد جب مقام توحید پر پہنچتا ہے تو نہ موحد رہتا ہے نہ توحید، نہ واحد نہ بسیار، نہ عابد نہ معبود، نہ ہستی نہ نیستی، نہ صفت نہ موصوف، نہ ظاہر نہ باطن، نہ منزل نہ مقام، نہ کفر نہ اسلام، نہ کافر نہ مسلمان.

Designed and Developed by Solutionica