حقیقت

حقیقت کے لغوی معنی ثابت ہو جانے کے ہیں مگر تصوف کی اصطلاح میں حقیقت دراصل خدا تعالٰی کی کُلی معرفت فی الوجود ہے اس سے مراد یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالٰی کوئی مخصوص شخصی وجود نہیں رکھتا اس لئے اس کو پھر تمثیل کے طور صوفیاء وجود پر محمول کر لیتے ہیں یہ معرفت کا حتمی اور انتہائی دقیق مقام ہے جس کو غیر صوفی کیلئے سمجھنا کافی مشکل ہے حتی کہ وہ سالک جو سلوک کی راہ میں سفر کر رہا ہو اس کیلئے بھی اس مقامِ ارفع کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں پر خالق و مخلوق میں دوئی کا پردہ چھٹ جاتا ہے دوئی جس کو صوفیاء حقیقی شرک سے تعبیر کرتے ہیں دراصل ایک ایسا مقام ہے جس پر رہتے ہوئے وحدت کے رمز کو نہیں سمجھا جا سکتا وحدت یعنی دوئی کا خاتمہ یہ وہ مقام ہے جہاں ذات غیر از ذات میں تحلیل ہو کر توحیدِ اصلی کی شکل اختیار کر لیتی ہے پس یہی حقیقت ہے.

Designed and Developed by Solutionica