معرفت

معرفت کے لغوی معنی شناخت کے ہیں تصوف کی اصطلاح میں معرفت سے مراد دراصل خدا کی پہچان ہے اور خدا کی پہچان کا پہلا راستہ خود کی پہچان ہے" جس نے خود کو پہچان لیا اُس نے خدا کو پہچان لیا" خدا کی معرفت کا یہ مرحلہ اُن بنیادی قوانین کی پریکٹس سے شروع ہوتا ہے جو خدا کے برگزیدہ پیمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن میں ہمیں بتا دیئے اور جسے فقہی اصطلاح میں شریعت کہتے ہیں جس کا ابتداء میں ہم ذکر کر چکے خدا تک پہنچنے کے کئی ایک راستے ہیں اور ہر مذہب نے الگ الگ راستے بتائے ہیں ضرورت پڑنے پر ہم تمام معتبر مذاہب کا تذکرہ کریں گے شریعت سے مراد خدا کے مقرر کردہ قوانین پر عمل کرنا، طریقت سے مراد اُن قوانین کی پریکٹس کرنا کسی صاحبِ حقیقت کے ہاتھ پر بیعت کرکے جبکہ معرفت سے مراد خدا کی پہچان حاصل کرنا اُن قوانین پر غور و فکر کرکے، یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار ہمیں غور و فکر کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ہم خدا کی معرفت حاصل کر سکیں قرآن میں ہے کہ خدا ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور یہ قربت خدا کی معرفت کے در کھولتی ہے بشرطیکہ غور و فکر سے کام لیا جائے

Designed and Developed by Solutionica